اللہ وہی ہے
جس نے سات آسمان بنائے اور اُنھی کے مانند زمینیں بھی۔ اُس کے احکام اُن کے درمیان نازل ہوتے رہتے ہیں۔
یہ اِس لیے بتا دیا ہے کہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور جان لو کہ اللہ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
سورہ الطلاق آیہ 20
مصلحتِ وقت کہیے یا تلخ حقیقت،
زندگی کسی شخص کی محتاج نہیں ہوتی۔
یہ گزر رہی تھی
اور یہ گزر ہی جائے گی۔
لوگ آپ کے عہدے اور وقت
کو سلام کرتے ہیں، اور آپ سمجھتے ہیں کہ مداح آپ کے ہیں۔۔۔۔۔
اپنے تعلقات کی چابی
کو اپنی جیب یا دراز میں رکھ دیں تاکہ بوقت ضرورت فورا دستیاب ہو سکے کیونکہ
یہ آپ کے رشتوں سے تعلق رکھتی ہے ۔۔۔۔۔
چابی گم ہونے کی صورت میں رشتے و تعلقات سب ختم۔۔۔۔۔۔
تصوف میں " لا" سے مراد اپنی انا کو مٹا کر خدا کی ذات میں فنا ہو جانا ہے۔ یعنی جب انسان یہ تسلیم کر لے کہ "میں کچھ نہیں ہوں"، تبھی وہ اصل منزل پا لیتا ہے۔
خوف پر قابو پانا علم کی ابتدا ہے۔
برٹرینڈ رسل
سائنس اندھیرے میں شمع کی طرح ہے۔ جو بھی اسے بجھانا چاہتا ہے وہ ہمیں تاریک دور واپس لے جانے کی دھمکی دیتا ہے۔
ایمان والو،
تمھارے مال اور تمھاری اولادیں تمھیں بھی اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں اور جو ایسا کریں گے، وہی خسارے میں پڑنے والے ہوں گے۔
ہم نے جو کچھ تمھیں عطا فرمایا ہے، اُس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، اِس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے،
یاد کرو،
جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل، میں تمھاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تورات کی اُن پیشین گوئیوں کا مصداق ہوں جو مجھ سے پہلے موجود ہیں،
اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہو گا۔
سورہ الصف آیہ 6
ہم کون سے غالب تھے کہ شہرت ہمیں ملتی
دنیا تری اتنی بھی پذیرائی بہت ہے
معروف شاعر اعتبار ساجد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
اپنی ذات کا بہترین تجزیہ نگار انسان خود ہوتا ہے۔
وہی اللہ ہےجس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، بادشاہ، وہ منزہ ہستی، سراسر سلامتی
امن دینے والا، نگہبان، غالب
بڑے زور والا، بڑائی کا مالک
پاک ہے اللہ اُن سے جو یہ شریک بتاتے ہیں۔وہی اللہ ہےنقشہ بنانے والا، وجود میں لانے والا،صورت دینے والا۔
سب اچھے نام اُسی کے ہیں۔زمین اور آسمانوں کی سب چیزیں اُسکی تسبیح کرتی ہیں
موت کا پنجہ نہایت سفاک ہوتا ہے ، وہ کسی کو اسکی مجبوریوں بنا پر اسے مہلت نہیں دیتا ،ترس بھی نہیں کھاتا۔۔۔۔۔
سارے فیصلے تم نے خود ہی کر ڈالے
اے زندگی۔۔
ہم سے بھی پوچھا ہوتا،
کیسے جینا تھا، کتنا جینا تھا،
جینا بھی تھا یا نہیں!
میرے پاس ناکامی کے قصے نہیں،
میرے پاس تجربات ہیں۔ انسان ہمیشہ اپنی ہی لغزشوں سے راہ پاتا ہے۔
میرے پاس دشمن نہیں ہیں، بلکہ سبق ہیں جو انسانوں کی صورت میں ملے،
سبق
جنہوں نے مجھے سکھایا کہ ان جیسے کرداروں سے کیسے دور رہا جائے
اِس میں شبہ نہیں کہ
یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے، ایک محفوظ کتاب میں۔ اُس کو صرف پاکیزہ (فرشتے) ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہ عالم کے پروردگار کا نازل کیا ہوا ہے۔
تو کیا اِس کلام سے بے اعتنائی برتتے ہو؟
اور جو تمھارے لیے (خدا کا) رزق ہے،اُسے جھٹلا رہےہو؟
سورہ الواقعہ
جب مادی وسائل ختم ہو جاتے ہیں،
تو روحانی سہارا اور کسی کا خلوصِ دل سے آپ کے حق میں ہاتھ اٹھانا سب سے بڑی تسلی بن جاتا ہے۔
جب آپ کو روشنی میسر نہ ہو،
تو تہہِ دل سے امید رکھیں کہ کوئی ایسا ہے جو آپ کو روشنی پہنچانے کا قادرہے۔۔۔۔۔
یقینا وہ اللہ ہے۔
زمین اور آسمانوں میں جوکچھ ہے،اللہ ہی کےاختیار میں ہے۔اِسکا نتیجہ یہی نکلےگاکہ برائی کرنےوالوں کو وہاُنکےعمل کی سزا دے اوراُن لوگوں کواچھی جزا دےجنھوں نےاچھےکام کیےجو بڑےگناہوں اور کھلی بےحیائیوں سے بچتےرہے،مگریہ کہ کبھی کچھ آلودہ ہوگئے(وہ اُنھیں معاف فرمادےگا)تیرےپروردگار کادامن مغفرت یقیناً بہت وسیع ہے
مِرے کریم ! جو تیری رضا، مگر اِس بار
برس گزر گئے ، شاخوں کو بے ثمر رہتے
#افتخار_عارف
وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے حالات اور لوگ بدل جاتے ہیں۔ یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ کوئی بھی چیز مستقل نہیں رہتی
واصف علی واصفؒ
مَیں نعرہِ مستانہ، مَیں شوخیِ رندانہ
مَیں تشنہ کہاں جاؤں،پی کربھی کہاں جانا
مَیں طائرِ لا ہوتی مَیں جوہرِ ملکوتی
ناسوتی نےکب مجھکو اِس حال میں پہچانا
مَیں سوزِ محبت ہوں مَیں ایک قیامت ہوں
مَیں اشکِ ندامت ہوں مَیں گوہرِ یکدانہ
زندگی بہت مختصر ہے کہ اسے ان لوگوں یا حالات پر ضائع کیا جائے جو آپ کی ذہنی سکون کی پرواہ نہیں کرتے۔۔۔۔۔
ہم نے، (اے پیغمبر)،
تم کو گواہی دینے والا، خوش خبری پہنچانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔
تاکہ (لوگو)، تم اللہ اور اُس کے رسول پر سچا ایمان لاؤ، رسول کا ساتھ دو، اُس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو
اے اُداس روح، مسکراؤ کہ تمہارا رب تم سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔
کوئی پُوچھے تو یہ کہ سکوں میں باب جبرئیل میرا پتہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو
لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ تم سے نہیں، بلکہ اللہ ہی سے بیعت کرتےہیں۔ اُن کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ سو جس نے یہ عہد توڑا، وہ اِس عہد شکنی کا وبال اپنے ہی سر لیتا ہے اور جس نے اُس بات کو پورا کر دیا جس کا عہد اُس نے اللہ سے کیا تھا تو اللہ عنقریب اُس کو بڑا اجر عطا فرمائےگا۔