jabbar bugti
ان حادثوں کا شکریہ جنہوں نے طرز زندگی بدل دی
- کیا ستم ہو کہ نئے سال کو چل دیں ہم لوگ اور تعاقب میں وہی روگ پرانے لگ جائیں عمرِ رفتہ کو تیرے شہر کے بازاروں میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے ممکن ہے زمانے لگ جائیں
- چلو اب مل کے حبس اور ہجر کا موسم بدلتے ہیں زرا سا تم بدل جاؤ زرا سا ہم بدلتے ہیں بس اتنا یاد رکھ لینا کہ ویسے کم بدلتے ہیں مگر جب ہم بدلتے ہیں تو پھر پیہم بدلتے ہیں اگر تم یہ سمجھتے ہو تمہارے غم زیادہ ہیں تو اب کی بار آپس میں ہم اپنے غم بدلتے ہیں ..